نئی دہلی،14/دسمبر (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ مرکز کے کوئلے بلاکس کی ورچوئل نیلامی کے منصوبہ کیخلاف جھارکھنڈ حکومت کی درخواست پر جنوری کے تیسرے ہفتے میں سماعت کرے گا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکز ہماری اجازت کے بغیر جھارکھنڈ میں کان کنی کے لئے زمین نہیں کھودسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بند سرنگوں کو دوبارہ بحال نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ بند سرنگوں کے ری گراس کیلئے اپنے احکامات کی سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ مرکز نے عدالت عظمی کو مطلع کیا تھا کہ کہ کان کنی کے مقام پر کچھ نہیں ہورہا ہے اور نیلامی ایک طویل عمل ہے۔
گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ جھارکھنڈ میں 9 سرنگوں کی نیلامی کے سلسلے میں کوئی نیلامی، لائسنس، لیز وغیرہ عدالت کے آخری احکامات کے تابع ہوگی مرکزی سرکار نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس دوران درختوں کو کاٹ کر کان کنی نہیں کی جائے گی۔
گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ وہ ملک بھر کے لئے احکامات جاری کرنے پر غور کریں گے کہ اگر کان ایکو سینسی ٹیو زون کے 50 کلومیٹر کے دائرہ میں آتی ہے تو کان کنی کی اجازت نہیں ہوگی۔ایس اے بوبڑے نے کہا کہ ہم ملک کی ترقی کو روکنا نہیں چاہتے، لیکن ہم کسی بھی طرح سے قدرتی وسائل کی تباہی بھی نہیں چاہتے۔جنگل کو دیکھنے کا سارا طریقہ غلط ہے۔ مرکزی حکومت لکڑی پر نہیں جنگل پرمعاشی قیمت لگائی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کان کنی کی وجہ سے جنگلات تباہ ہوجائیں۔
جھارکھنڈ میں کوئلے کی کانوں کی نیلامی کے خلاف جھارکھنڈ کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ ایک ماہرین کے پینل کی تشکیل چاہتے ہیں،تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ کیا جھارکھنڈ میں سرنگوں کو ایکو زون کے تحت نیلام کیا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک ماہرین کے پینل اپنی رپورٹ پیش نہیں کرتے،اس وقت تک وہ نیلامی پر روک لگا سکتا ہے۔ تاہم مرکز کی طرف سے پیش اے جی نے اس کی مخالفت کی۔چیف جسٹس نے اے جی کو بتایا کہ ہم ماحولیات کے تعلق سے خودکو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کمیٹی کی مدد کریں اور وہ ایک ماہ میں رپورٹ کریں گے اور ہم اس دوران میں نیلامی روک سکتے ہیں۔